ریو دی جنیریو، 7؍اگست(ایس اونیوز؍آئی این ایس انڈیا )ریو کھیل کے شروع ہونے سے پہلے ڈوپنگ تنازعات میں پھنسے روس کو ہفتہ کو جوڈو میں بیسلن مڈرانوو نے پہلا طلائی تمغہ دلایا۔مڈرانوو نے مردوں کے 60کلو گرام زمرے میں قازقستان کے ییلدوس سمیتو کو شکست دے کر اپنے ملک کو پہلے ہی دن تمغوں میں برقراررکھا۔تمغہ جیتنے کے بعد مڈرانوو نے کہا کہ ہمارے ملک پر بہت زیادہ نفسیاتی دباؤ تھا اس لئے پہلے ہی دن طلائی تمغہ جیتنا ہمارے ملک کے لحاظ سے بہت اہم ہے۔اینٹی ڈوپنگ تحقیقات میں حکومت سپانسر ڈوپنگ کی سازش بے نقاب ہونے کے بعد بین الاقوامی اولمپک کمیٹی نے روس پر مکمل پابندی تو نہیں لگائی لیکن اس کے 100سے زائد کھلاڑیوں کو ریو کھیلوں میں شامل ہونے سے روک دیا۔اس پورے تنازعہ کے سبب اولمپکس میں روس کی 100 سالوں کی سب سے کم کھلاڑیوں کی ٹیم حصہ لے رہی ہے اور بہت سے کھلاڑیوں کی تیاریاں اس وجہ سے متاثر ہوئی۔تاہم مڈرانوو نے کہا کہ ان کو ہمیشہ اس بات کا یقین تھا کہ انہیں مقابلے میں حصہ لینے دیا جائے گا۔